مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: هي عنده على طلاق جديد باب: جو حضرا ت فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
١٩٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن ابن عون عن (رجاء) (١) عن قبيصة (قال) (٢): قلت رجل طلق امرأته (تطليقة) (٣) فبانت منه فحلت، فتزوجت زوجًا فدخل بها ثم مات عنها أو طلقها، فرجعت إلى (زوجها) (٤) الأول: على كم هي عنده؟ قال: (٥) على ما بقي (من الطلاق) (٦) (قال) (٧) قلت: فطلقها أخرى (فبانت منه) (٨) فتزوجت زوجًا فدخل بها ثم مات عنها (أو طلقها) (٩)، فرجعت إلى زوجها الأول، على كم هي عنده؟ (قال: هي على ما بقي، قلت فطلقها أخرى فحلت فتزوجت زوجًا ثم دخل بها ثم مات عنها فرجعت إلى زوجها الأول، على كم هي عنده؟) (١٠) قال: هي على ثلاث.حضرت رجائ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قبیصہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ بائنہ ہوگئی، اس نے عدت پوری کی اور کسی مرد سے شادی کرلی، اس نے اس سے دخول کیا پھر وہ مرگیا یا اس کو طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے سوال کیا کہ اگر اس نے اسے دوسری مرتبہ طلاق دی، وہ بائنہ ہوگئی، پھر اس نے کسی آدمی سے نکاح کیا، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر وہ مرگیا یا اسے طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے کہا کہ اس نے پھر طلاق دے دی، اس نے عدت کے بعد کسی اور مرد سے شادی کرلی ، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر اسے طلاق دے دی یا مرگیا یہ عورت پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین طلاقوں کے ساتھ۔