مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المرأة تسلم قبل زوجها، من قال: يفرق بينهما باب: اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
حدیث نمبر: 19314
١٩٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن الشيباني عن يزيد بن علقمة أن رجلًا من بني (تغلب) (١) يقال له (عبادة) (٢) بن النعمان فكان تحته امرأة من بني تميم فأسلمت فدعاه عمر فقال: إما أن تسلم، وإما أن (أنزعها) (٣) منك، فأبى أن يسلم (فنزعها) (٤) منه عمر (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کا ایک آدمی جس کا نام عبادہ بن نعمان تھا، اس کے عقد میں بنو تمیم کی ایک عورت تھی، اس عورت نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا کہ چاہو تو اسلام قبول کرلو بصورتِ دیگر ہم تمہاری بیوی کو تم سے جدا کردیں گے، اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو اس سے جدا کردیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (ثعلب)؛ وانظر: سنن البيهقي (٩/ ٢١٦)، والحاوي ١٤/ ٣٤٥، والمحلى ٧/ ٣١٣.
(٢) في [هـ]: (عباد).
(٣) في [س]: (انزعها).
(٤) في [ط]: (فزعها).
(٥) مجهول؛ لجهالة يزيد بن علقمة.