مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: ليس هو بطلاق، فلا يطأها الذي يشتريها حتى يطلق باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں ہے، البتہ خریدنے والا اس وقت تک جماع نہیں کرسکتا جب تک اسے طلاق نہ دے دی جائے
١٩٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن سيرين قال: نبئت أن عبد الرحمن (١) (رأى) (٢) (امرأة) (٣) فأعجبته (فسأل) (٤) عنها، قالوا: هذه أمة لفلان، فاشتراها بأربعة آلاف (درهم) (٥) (وإذا) (٦) لها زوج فأعطاه مائة ⦗٢٢٩⦘ درهم على أن يطلقها، فأبى فزاده فأبى (فزاده فأبى) (٧) حتى بلغ خمسمائة فأبى فردها (عليه) (٨) (٩).حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک عورت دیکھی جو انہیں بھلی محسوس ہوئی، انہوں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ فلاں کی باندی ہے، انہوں نے چار ہزار درہم کے عوض اسے خرید لیا، بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا خاوند بھی ہے، چناچہ انہوں نے اس کے خاوند کو ایک سودرہم دیئے کہ وہ اسے طلاق دے دے، اس نے طلاق دینے سے انکار کردیا، انہوں نے رقم کو بڑھایا اس نے پھر انکار کیا وہ بڑھاتے رہے اور وہ انکار کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے پانچ سو درہم دینے کی پیش کش کی لیکن اس نے پھر بھی انکار کردیا تو حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے وہ باندی اس کو دے دی۔