مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في (الرجل) يطلق امرأته ثلاثا ثم يجحدها باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19229
١٩٢٢٩ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن الهذيل بن بلال عن شيخ يكنى أبا عمرو (٢) قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتته امرأة فقالت: إن زوجها يطلقها في السر، و (يجحد) (٣) في العلانية، فقال: عليه أن يحلف أربع شهادات باللَّه ما طلق، والخامسة أن لعنة اللَّه (عليه) (٤) إن كان فعل (٥).مولانا محمد اویس سرور
ایک بزرگ ابو عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند علیحدگی میں مجھے طلاق دیتا ہے اور لوگوں کے سامنے آکر انکار کردیتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اللہ کی چار قسمیں کھائے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس نے طلاق دی ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔
حواشی
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (أبو داود).
(٢) في [ب، س]: زيادة (و).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك]: (يجحدها).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) مجهول؛ أبو عمرو مجهول.