مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
١٩١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن داود عن الشعبي قال: لما أرسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه ليقولن فقال: إن اللَّه سن ⦗١٩٦⦘ (سننًا) (١) وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم (عمدوا) (٢) إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء (فميزوا) (٣)، السنن، فأمضوها على وجهها وألحقوا البدع بأهلها، أما (طالق) (٤) فمعروفة، وأما البتة فبدعة (نوقفه) (٥) على بدعته، فإن شاء تأخر وإن شاء تقدم.حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس بارے میں حضرت شریح رحمہ اللہ سے استفسار کیا، انہوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ رحمہ اللہ کے اصرار پر انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لئے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انہوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے توتاخر۔