مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19132
١٩١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي قال: شهد عبد اللَّه بن شداد (عند) (١) عروة بن (المغيرة) (٢) (أن) (٣) عمر جعلها واحدة وهو أحق بها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قطعی طلاق کو ایک طلاق قرار دیا اور خاوند کو رجوع کا حق دار ٹھہرایا۔ جبکہ رائش بن عدی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دی کہ انہوں نے طلاق قطعی کو تین طلاقیں قرار دیا۔ جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (عن)؛ وانظر: الاستذكار (٦/ ١٣).
(٢) في [س، هـ]: (مغيرة).
(٣) في [س]: (عن).