مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يخير امرأته فتختاره أو تختار نفسها باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
١٩٠٨٦ - حدثنا أبو بكر (قال: نا وكيع) (١) عن جرير بن حازم (٢) عن عيسى بن عاصم عن (زاذان) (٣) قال: كنا جلوسًا عند علي فسئل عن الخيار فقال: سألني عنها أمير المؤمنين عمر فقلت: إن اختارت نفسها [فواحدة (بائنة) (٤) وإن اختارت زوجها] (٥) فواحدة وهو أحق بها فقال: ليس كما قلت: إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء وهو أحقّ بها فلم أجد بدا من متابعة أمير المؤمنين، فلما وليت وأتيت (في) (٦) (الفروج) (٧) رجعت إلى ما كنت أعرف، فقيل له: رأيكما في الجماعة أحب إلينا من رأيك في الفرقة، فضحك علي (فقال) (٨): أما إنه أرسل إلى زيد بن ثابت فسأله فقال: إن اختارت نفسها فثلاث، وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة (٩).حضرت زاذان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔