مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يخير امرأته فتختاره أو تختار نفسها باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19081
١٩٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: ما أبالي (خيرت) (١) امرأتي واحدة أو مائة أو ألفا بعد أن تختارني، ⦗١٨٣⦘ ولقد (أتيت) (٢) عائشة فسألتها عن ذلك فقالت: (قد) (٣) خيرنا رسول اللَّه ﷺ فاخترناه (أفكان) (٤) طلاقًا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری بیوی مجھے اختیار کرنے کے بعد ایک، سو یا ہزار طلاقیں اختیار کرلے۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تھا تو کیا یہ طلاق ہوگئی ؟
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (خرت).
(٢) في [ك]: في الحاشية.
(٣) في [أ، ب]: (لقد).
(٤) في [س]: (أن).