مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا فيه إذا جعل أمر امرأته بيدها (فتقول): أنت طالق ثلاثا باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟
١٩٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن بشر العبدي قال: نا زكريا بن أبي زائدة قال: نا منصور حدثني إبراهيم عن علقمة قال: كنت (عند) (٢) عبد اللَّه بن مسعود فأتاه رجل فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنه كان بيني وبين أهلي بعض ما يكون بين الناس، وإنها قالت: لو كان ما بيدك من الأمر بيدي لعلمت ما (أصنع؟) (٣) ⦗١٨٢⦘ فقلت لها: هي بيدك، قالت: فإني قد طلقتك ثلاثًا، (قال) (٤) عبد اللَّه: هي تطليقة واحدة وأنت أحق بها، قال: فذكرت ذلك لعمر (قال) (٥) فقال: لو قلت غير ذلك (لرأيت) (٦) أنك لم تصب (٧).حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن ! میرے اور میری بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا، اس نے مجھے کہا کہ اگر تم اپنا معاملہ میرے ہاتھ میں دے دو تو تم دیکھنا کہ میں کیا کرتی ہں و ؟ میں نے کہا کہ وہ تیرے ہاتھ ہے، پھر اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوئی، اور تم اس سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کرتے تو میں سمجھتا کہ تم نے صحیح بات نہیں کی۔