حدیث نمبر: 1905
١٩٠٥ - حدثنا هشيم قال: أنا يونس عن الحكم بن الأعرج قال: سألت ابن عمر عن المسح على الخفين؟ فقال: اختلفت أنا وسعد في ذلك ونحن بجلولاء فقال سعد: امسح عليهما، فأنكرت ذلك، فلما قدمنا على عمر ذكرت له ذلك، قال: (فقلت) (١) يا أمير المؤمنين إنه يقول: امسح عليهما بعد الحدث، فقال عمر: ألا بعد الخراءة (ألا بعد الحدث) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مقام جلولاء میں میرا اور حضرت سعد کا موزوں پر مسح کے بارے میں اختلاف ہوگیا تھا۔ حضرت سعد کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو جبکہ میں انکار کرتا تھا۔ جب ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ حضرت سعد کہتے ہیں کہ وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر مسح کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا استنجاء کرنے کے بعد بھی مسح کرو، وضو ٹوٹنے کے بعد بھی مسح کرو۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (فقال).
(٢) في [أ، خ]: حذف ما بين القوسين.