حدیث نمبر: 1904
١٩٠٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن محارب عن ابن عمر قال: اختلفت أنا وسعد بالقادسية في المسح على الخفين، فقال سعد: امسح عليهما، وأنكرت أنا ذلك، فلما قدمنا على عمر بن الخطاب (ذكر له) (١) ذلك سعد، فقال له: ألم تر أن ابن عمر ينكر المسح على الخفين، فقال: فقلت: يا أمير المؤمنين، إن سعدا يقول: امسح عليهما بعد الحدث. قال: فقال عمر: ألا بعد الحدث، ألا بعد الخراءة (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے موقع پر موزوں پر مسح کے بارے میں میرا اور حضرت سعد کا اختلاف ہوگیا۔ وہ کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو جبکہ میں انکار کرتا تھا۔ جب ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سعد نے ان سے اس معاملے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما موزوں پر مسح کا انکار کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! حضرت سعد کہتے ہیں کہ وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر مسح کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کرو، پاخانہ کرنے کے بعد بھی مسح کرو۔

حواشی
(١) في [أ، خ، جـ، ك]: (ذكر ذلك له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٢) وأحمد (٨٨) وعبد الرزاق (٧٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1904، ترقيم محمد عوامة 1898)