مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته نصف تطليقة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19038
١٩٠٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن الحارث (العكلي) (١) في رجل له أربع نسوة فقال لهن: بينكن ثلاث تطليقات قال: بانت كل ⦗١٧٣⦘ واحدة (منهن) (٢) بثلاث تطليقات، والرجل يطلق. نصف تطليقة قال: هي تطليقة تامة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث عکلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان سے کہے کہ تمہارے درمیان تین طلاقیں، تو ان میں سے ہر ایک تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی، اور اگر آدمی نے اپنی بیوی کو آدھی طلاق دی تو وہ پوری ایک طلاق شمار کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [س]: (الوكل).
(٢) سقط من: [س].