مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يقول (لامرأته): الحقي بأهلك باب: اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ’’اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا‘‘ تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19037
١٩٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن رجل قال لامرأته: اخرجي، الحقي بأهلك، ينوي الطلاق (قالا) (١): هي واحدة، وهو أحق برجعتها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ نکل جا، اپنے گھر والوں سے مل جا اور اس نے طلاق کی نیت بھی کی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (قال).