مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يحلف بالطلاق فيبدأ به باب: اگر آدمی ان شاء اللہ کہہ کر طلاق دے لیکن اگر طلاق سے ابتداء کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18998
١٨٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن (سعيد) (١) الزبيدي قال: أتيت امرأتي طروقًا فقالت لي: ما جئت بهذه (الساعة) (٢) إلا (ولك) (٣) (امرأة) (٤) غيري فقلت: كل امرأة لي فهي طالق ثلاثًا غيرك، فسألت إبراهيم (فقال) (٥): ليس بشيء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید زبیدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کو اپنی بیوی کے پاس بہت دیر سے آیا تو وہ مجھے کہنے لگی تم میرے پاس اس وقت صرف اس لئے آئے ہو کہ تمہاری کوئی اور بیوی بھی ہے، میں نے کہا کہ اگر میری کوئی اور بیوی ہو تو اس کو طلاق ہے، میں نے اس بارے میں ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس جملے میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [جـ]: (سعد).
(٢) في [ط]: (السلمة).
(٣) في [س، ط]: (ذلك).
(٤) في [ط]: (امرأتي).
(٥) في [س]: (قال).