حدیث نمبر: 18988
١٨٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن عمر بن عامر عن حماد عن إبراهيم في رجل قال: امرأته طالق، (وله) (١) ثلاث نسوة (فقال) (٢): إن كان نوى منهن شيئًا فهي التي نوى، وإن لم يكن نوى منهن شيئًا (فليختر) (٣) أيتهن شاء وكذلك (الإيلاء) (٤) (و) (٥) الظهار.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص کی زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ اس کی ایک بیوی کی تین طلاق تو اگر کسی کی نیت کی تھی تو اسے طلاق ہوگی اور اگر کسی کی نیت نہیں کی تو ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔ ایلاء اور ظہار کا بھی یہی حکم ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (فله).
(٢) في [ك]: (قال).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك]: (فليتخير).
(٤) في [س]: (الأبله) وزيادة (و).
(٥) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18988
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18988، ترقيم محمد عوامة 18316)