مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يكتب طلاق امرأته بيده باب: اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18971
١٨٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد (الخالق) (١) عن حماد (قال) (٢): إذا كتب الرجل إلى امرأته: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق، فإن لم يأتها الكتاب فليس (هي) (٣) بطالق، (فإن) (٤) كتب: أما بعد فأنت طالق (فهي طالق) (٥) قال ابن شبرمة (٦): (فهي) (٧) طالق.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تمہیں طلاق ہے، اگر خط اس کے پاس نہ پہنچا توطلاق نہ ہوگی، اور اگر خط میں لکھا : اما بعد ! تمہیں طلاق ہے۔ تو اگر خط نہ بھی پہنچے تو طلاق ہوجائے گی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الخلف).
(٢) في [س]: (وقال).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ك].
(٤) في [جـ]: (وإن).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) تقديم وتأخير في [جـ]: (ابن شبرمة قال)، وفي [س]: (ابن سيرين).
(٧) في [أ، ب، ط، ك]: (هي).