مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18950
١٨٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد الملك بن مسلم الحنفي [عن عيسى ابن حطان عن (ريان) (١) بن صبرة الحنفي] (٢) أنه كان جالسا في مجلس قومه فأخذ نواة فقال: نواة طالق، نواة طالق ثلاثًا، قال: فرفع إلى علي فقال: ما ⦗١٥٣⦘ نويت؟ قال: نويت امرأتي قال: ففرق بينهما (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن حطان کہتے ہیں کہ ریان بن صبرہ حنفی رحمہ اللہ اپنی قوم کی مسجد میں بیٹھا تھا، اس نے ایک گٹھلی پکڑی اور تین مرتبہ کہا کہ گٹھلی کو طلاق ہے۔ یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تیری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان جدائی کرادی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س]: (الديان)، وفي [ط]: (الدنيان)، وفي [هـ]: (زبان).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة ريان بن صبرة.