مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18944
١٨٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (محمد بن مسلم) (١) عن إبراهيم بن (ميسرة) (٢) عن ابن طاوس عن أبيه أن رجلًا كان جالسا مع امرأته على وسادة، وكأن الرجل (رضي) (٣) فقال لامرأته: أنت طالق، يعني الوسادة، فقال طاوس: ما أرى (عليك) (٤) شيئًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک تکیے پر بیٹھا تھا، آدمی نے اپنی بیوی کو خطاب کرتے ہوئے تکیہ کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تو کیا حکم ہے ؟ حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حواشی
(١) في [أس، ز، ط، ك، هـ]: (مسلم بن محمد).
(٢) في [س]: (مسيرة).
(٣) في [س]: (آتى)، وفي [ط]: (دعى).
(٤) سقط من: [س].