مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
١٨٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن عاصم عن السميط (١) (السدوسي) (٢) قال: خطبت امرأة فقالوا: لا (نزوجك) (٣) حتى تطلق امرأتك ثلاثًا فقلت: قد طلقتها ثلاثًا (قال) (٤): فزوجوني ثم نظروا فإذا امرأتي عندي (فقالوا) (٥): أليس قد طلقت امرأتك؟ قلت: (بلى) (٦) (كانت) (٧) تحتي (فلانة) (٨) ⦗١٥١⦘ (بنت) (٩) فلان فطلقتها، وأما هذه (فلم) (١٠) أطلقها، (فأتيت) (١١) شقيق بن (مجزأة) (١٢) بن ثور وهو يريد الخروج إلى عثمان فقلت: سل أمير المؤمنين عن هذه فسأله فقال: نيته (١٣).سمیط سدوسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے مجھے کہا کہ جب تک تم اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ہم نکاح نہیں کریں گے، میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں، انہوں نے میری شادی کرادی، شادی کے بعد انہوں نے دیکھا کہ میری بیوی تو میرے پاس ہے، انہوں نے کہا کہ تم نے اپنے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی ؟ میں نے کہا کہ دی تھی۔ میرے نکاح میں فلانہ بنت فلاں تھی میں نے اس کو طلاق دی تھی اس کو نہیں دی تھی۔ پھر میں شقیق بن مجزاۃ کے پاس آیا وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا ارادہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ امیر المومنین سے اس بارے میں سوال کرنا، انہوں نے سوال کیا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔