مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المجنون والمعتوه: يجوز لوليه أن (يطلق عليه) باب: کیا مجنون او رمعتوہ کا ولی ان کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 18892
١٨٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن (أيوب) (١) قال: كتبت إلى أبي قلابة في امرأة زوجها مجنون لا (ترجو) (٢) أن (يبرأ) (٣) يطلق عنه وليه؟ فكتب إلي (لا، إنها) (٤) امرأة ابتلاها اللَّه بالبلاء فلتصبر.مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ ایسے مجنون کی بیوی جس کے ٹھیک ہونے کی کوئی امید نہ ہو تو کیا اس کی طرف سے ولی عورت کو طلاق دے سکتا ہے ؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ وہ طلاق نہیں دے سکتا، اس عورت کو اللہ نے آزمائش میں ڈالا ہے اسے چاہئے کہ صبر کرے۔
حواشی
(١) في [س]: (أبويب).
(٢) في [أ، ب]: (يرجو)، وفي [جـ، ك]: (يرجون).
(٣) في [أ، ب]: (يبدأ).
(٤) في [أ، ب، س، ط]: (لأنها)، وفي [هـ]: (إنها).