مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا: في الذي به الموتة يطلق؟ باب: جس شخص کو مُوتہ (بے ہوشی اور جنون کا دورہ) ہو اس کی طلاق کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 18885
١٨٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد (بن) (١) إبراهيم عن الحسن في الذي (تصيبه) (٢) (النظرة) (٣) من الجنون يطلق؟ قال الحسن: لا يلزمه.مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر پاگل پن کا دورہ ہو اور وہ طلاق دے تو اس کی طلاق نہیں ہوتی۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے خریدو فروخت کی تو اس کا اعتبا رہوگا لیکن اگر حالت جنون میں طلاق دی تو طلاق نہیں ہوگی۔
حواشی
(١) في [جـ]: (بن)، وفي [أ، س، ز، ط، ك]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (يصيبه).
(٣) في [خ]: (الخطرة).