حدیث نمبر: 18885
١٨٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد (بن) (١) إبراهيم عن الحسن في الذي (تصيبه) (٢) (النظرة) (٣) من الجنون يطلق؟ قال الحسن: لا يلزمه.
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر پاگل پن کا دورہ ہو اور وہ طلاق دے تو اس کی طلاق نہیں ہوتی۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے خریدو فروخت کی تو اس کا اعتبا رہوگا لیکن اگر حالت جنون میں طلاق دی تو طلاق نہیں ہوگی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (بن)، وفي [أ، س، ز، ط، ك]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (يصيبه).
(٣) في [خ]: (الخطرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18885، ترقيم محمد عوامة 18227)