حدیث نمبر: 1885
١٨٨٥ - حدثنا ابن عيينة عن عاصم عن زر قال (أتيت) (١) صفوان بن عسال المرادي فقال: ما جاء بك؟ (قلت) (٢): ابتغاء العلم قال: فإن الملائكة تضع أجنحتها لطالب العلم. قال: وكان رسول اللَّه ﷺ إذا كنا في سفر أمرنا أن لا ننزع أخفافنا ثلاثة أيام إلا من جنابة ولكن من غائط (و) (٣) بول ونوم (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذرّ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسّال مرادی کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ علم کی تلاش میں۔ فرمایا کہ فرشتے طالب علم کے پاؤں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب ہم کسی سفر میں ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس بات کا حکم دیتے تھے کہ ہم سوائے حالتِ جنابت کے تین دن تک موزے نہ اتاریں۔ لہٰذا بول و براز اور نیند میں مشغول کیوں نہ ہوں۔
حواشی
(١) في [جـ، ك، هـ]: (رأيت).
(٢) في [د]: (قلت) وفي بقية النسخ: (قلنا).
(٣) في [د، هـ]: (أو).