مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18838
١٨٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب بن مغيرة عن إبراهيم في رجل طلق امرأته واحدة، فلقيه رجل فيقول: طلقت امرأتك؟ فيقول: نعم، ثم لقيه آخر فقال: طلقت؟ قال. نعم، فقال: إن كان نوى (الأولى) (١) (فهي) (٢) واحدة.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اور آدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے تو آدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو اگر ان کو جواب دینے میں اس نے پہلی طلاق کی نیت کی تھی تو طلاق ایک ہی رہے گی۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ك]: (الأول).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (هي).