مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق أنت طالق (أنت طالق)، قبل أن يدخل عليها، متى يقع عليها؟ باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18828
١٨٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عياش) (١) عن مطرف عن الحكم في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق، أنت طالق، (أَنت طالق) (٢) (قال) (٣): بانت بالأولى (والأخريان) (٤) (ليستا بشيء) (٥) قال: قلت: من يقول هذا؟ قال: علي وزيد وغيرهما، يعني قبل أن يدخل بها (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو وہ پہلے جملے سے ہی بائنہ ہوجائے گی اور باقی دونوں طلاقوں کا کوئی اثر نہیں۔ حضرت مطرف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ اس بات کا قائل کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ وغیرہ۔
حواشی
(١) في [أ، س، هـ]: (عباس).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: زيادة (قال)، وسقط من: [ك، ل].
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ك]: (والأخرتين)، وفي [ط]: (الأخريين).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (ليس بشيء).
(٦) منقطع؛ الحكم عن علي وزيد منقطع.