مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من كان يوقعه عليه ويلزمه الطلاق إذا وقت باب: جن حضرات کے نزدیک ایسی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر طلاق کو کسی وقت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس وقت طلاق ہوجاتی ہے
حدیث نمبر: 18801
١٨٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن سويد بن نجيح الكندي قال: سألت الشعبي عن رجل قال: (إن تزوجت) (١) فلانة فهي طالق، أو يوم أتزوج فلانة فهي طالق، قال الشعبي: هو كما (قال) (٢) فقلت: إن عكرمة يزعم أن الطلاق بعد النكاح فقال: (جرمز) (٣) مولى ابن عباس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ اس نے کہا کہ اگر میں فلانی عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جیسے اس نے کہا ہے ایسے ہی ہوگا۔ میں نے کہا کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جرمز ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ہیں۔
حواشی
(١) في [ب، جـ]: (أتزوجت).
(٢) في [ط]: سقط من: (قال).
(٣) في [أ، ب]: (حرمن)، وفي [س، هـ]: (حرمز)، وانظر: النهاية لابن الأثير ١/ ٢٦٣، وتاج العروس ١٥/ ٥٧، ومعناه: نكص عن الجواب.