١٨٧٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن المغيرة بن شعبة قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر فقال: "يا مغيرة خذ الإداوة"، (قال) (١): ⦗٣٧٩⦘ فأخذتها، ثم خرجت معه، فانطلق رسول اللَّه ﷺ حتى توارى عني، فقضى حاجته، ثم جاء، وعليه جبة شامية ضيقة الكمين، فذهب ليخرج يده من كمها، فضاقت، فأخرج يده من أسفلها، فصببت عليه، فتوضأ وضوءه للصلاة، ثم مسح على خفيه، ثم صلى (٢).حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے مغیرہ ! برتن لے کر چلو۔ میں برتن لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ گئے اور آپ نے رفع حاجت فرمائی۔ پھر آپ تشریف لے آئے اور آپ نے تنگ آستینوں والا جبہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ آپ اس میں سے ہاتھ نکالنے لگے لیکن تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوا۔ پھر آپ نے جبّہ کے اندر سے ہاتھ نکال کر وضو کیا، پھر موزوں پر مسح کر کے آپ نے نماز ادا فرمائی۔