حدیث نمبر: 1871
١٨٧١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور عن (ابن) (١) سيرين عن أفلح مولى أبي أيوب: عن أبي أيوب أنه كان يأمر بالمسح على الخفين، وكان هو يغسل قدميه، فقيل له في ذلك: كيف تأمر بالمسح، وأنت تغسل؟ فقال: بئس (ما لي) (٢) إن كان (مهنأة) (٣) لكم، ومأثمة علي قد رأيت رسول اللَّه ﷺ يفعله، ويأمر به، ولكن حبب إلي الوضوء (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب موزوں پر مسح کا حکم دیا کرتے تھے لیکن خود پاؤں دھویا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے ہیں لیکن خود پاؤں دھوتے ہیں ؟ فرمانے لگے کہ میں اسے تمہارے لیے گنجائش اور اپنے لیے گناہ سمجھتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے اور پاؤں دھوتے دیکھا ہے اور مجھے بھی وضو ہی پسند ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) في [خ]: (مال).
(٣) في [هـ]: (مهياه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1871
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن المنذر في الأوسط (٤٤٩) والحارث كما في البغية (٧٦) والطبراني (٣٩٨٢)، والبيهقي ١/ ٢٩٣، وأحمد (٢٣٥٧٣) وسيأتى ١٩١٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1871، ترقيم محمد عوامة 1865)