حدیث نمبر: 18685
١٨٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عامر العقدي عن (عبد الحكيم) (١) بن أبي فروة قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يقول: ما (بال) (٢) رجال يقول أحدهم (لامرأته) (٣): اذهبي إلى أهلك، فيطلقها في أهلها فنهى عن ذلك أشد النهي.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اپنے اہل کے پاس چلی جا ! اور پھر وہ اسے اس کے اہل میں طلاق دیتا ہے۔ انہوں نے اس سے سختی سے منع کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (عبد الحليم)، وفي [خـ]: (عبد الحكم).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ب، س، ك]: زيادة (لامرأته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18685
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18685، ترقيم محمد عوامة 18042)