مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في تزويج الأبكار وما ذكر في ذلك باب: باکرہ عورتوں سے نکاح کی فضیلت
١٨٦٣٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن الأسود بن قيس العبدي عن (نبيح) (٢) ابن عبد اللَّه (العنزي) (٣) عن جابر بن عبد اللَّه قال: مشيت مع النبي ﵇ (٤) فقال: "ألك امرأة يا جابر؟ " (قلت) (٥): نعم! (فقال) (٦): ⦗٧٦⦘ " (ثيبًا) (٧) نكحت أم بكرًا؟ "، (قال) (٨): تزوجتها وهي ثيب، فقال النبي ﵇ (٩): "فلولا (تزوجتها) (١٠) جارية تلاعبها"، قال: قلت (له) (١١): (قتل أبي) (١٢) معك يوم كذا (و) (١٣) كذا، (وترك) (١٤) (جواريًا) (١٥) (فكرهت) (١٦) أن أضم إليهن جارية، فتزوجت ثيبًا (تقصع) (١٧) (قمل) (١٨) (إحداهن) (١٩)، (وتخيط) (٢٠) (درع) (٢١) (إحداهن) (٢٢) إذا (تخرق) (٢٣) فقال رسول اللَّه ﷺ: " (فإنك) (٢٤) نعمًّا رأيت" (٢٥).حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے جابر ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ثیبہ سے شادی کی یا باکرہ سے ؟ میں نے کہا کہ ثیبہ سے شادی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نوجوان لڑکی سے شادی کرتے تاکہ تم اس سے دل لگی کرتے۔ میں نے کہا کہ میرے والد فلاں جنگ میں آپ کی معیت میں جامِ شہادت نوش کرگئے، ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں، میں نے ان کے ساتھ ایک اور نوجوان کو لانا پسند نہ کیا۔ میں نے ایک ثیبہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی جوؤیں بھی نکالے اور اگر ان کا کپڑا پھٹ جائے تو اسے بھی سی دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے صحیح بات سوچی۔