حدیث نمبر: 18596
١٨٥٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت (ذكوانًا) (١) يحدث عن مولى (لعمرو) (٢) بن العاص أنه أرسله إلى علي يستأذن على أسماء ابنة عميس ⦗٦٢⦘ فأذن له، حتى إذا فرغ من حاجته (سأل) (٣) (المولى) (٤) (عمرًا) (٥) عن ذلك، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ نهانا أن (ندخل) (٦) (على) (٧) النساء بغير إذن أزواجهن (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ذکوان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خادم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ ان سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کریں جب اجازت مل گئی تو انہوں نے اپنی ضرورت کی بات کی تو خادم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی تو اس پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم عورتوں سے ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر ملاقات کریں۔

حواشی
(١) في [ط، س]: (ذكرانًا)، والوجه عدم صرفه.
(٢) في [س]: (معمر).
(٣) في [ط]: (فسأل).
(٤) في [أ، ب]: (مولى).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: (عمرو).
(٦) في [س]: (تدخل).
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) مجهول؛ لجهالة مولى عمرو بن العاص، أخرجه أحمد (١٧٨٠٥)، والترمذي (٢٧٧٩)، وأبو يعلى (٧٣٤١)، والبيهقي ٧/ ٩٠، وانظر ما بعده.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18596
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18596، ترقيم محمد عوامة 17955)