حدیث نمبر: 18587
١٨٥٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة غن ثابت ⦗٥٨⦘ وإسماعيل (بن) (١) عبد اللَّه بن أبي طلحة أن أبا طلحة خطب أم سليم فقالت: يا أبا طلحة (ألست) (٢) تعلم أن (إلهك) (٣) (الذي) (٤) تعبد (خشبة) (٥) (نبتت) (٦) من الأرض، نجرها (حبشي) (٧) بني فلان قال: بلى! قالت: (فلا) (٨) تستحي من ذلك، فإنك إن أسلمتَ لم أرد منك صداقًا غيره، حتى أنظر قال: فذهب ثم جاء فقال: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدًا رسول اللَّه قالت: يا أنس! قم فزوج أبا طلحة، فزوجها (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثابت رحمہ اللہ اور اسماعیل بن عبد اللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کوپیامِ نکاح بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے ابو طلحہ ! کیا تم نہیں جانتے کہ جن معبودوں کی تم پوجا کرتے ہو وہ ایک محض ایک لکڑی ہے جو زمین سے اگتی ہے اور اسے فلاں حبشی نے اگایا ہے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا واقعی بات تو یوں ہی ہے۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر تمہیں اس سے شرم کیوں نہیں آتی، تم اسلام قبول کرلو، تمہارا اسلام کو قبول کرنا ہی میرا مہر ہوگا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سوچنے کے لئے وقت مانگا پھر آئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے انس اٹھو اور ابو طلحہ سے میرانکاح کرادو۔ چناچہ انہوں نے نکاح کرادیا۔

حواشی
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [أ، ب، س، ز، ط، ك]: (أليس).
(٣) في [ز، ط، ك]: (آلهتك).
(٤) في [جـ، ز، ك]: (التي).
(٥) في [س]: (حشية).
(٦) في [ك]: (تنبت)، وفي [ط]: (نبشت)، وفي [س]: (ست).
(٧) في [س]: (خشي)، وفي [ط]: (حشي).
(٨) سقط من: [س].
(٩) منقطع؛ إسماعيل لم يدرك ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18587
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18587، ترقيم محمد عوامة 17946)