مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يستأذن على أمه وعلى أخته باب: آدمی اپنی ماں یا بہن کے یہاں آنے سے پہلے اجازت طلب کرے
حدیث نمبر: 18531
١٨٥٣١ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: كان عطاء وأخوات له بمكة في بيت، وأهل مكة يختلف أحدهم إلى أهله في (الليلة) (١) مرارًا، فكان يأتيهن (بالليل) (٢) فسأل ابن عباس: أستاذن عليهن كلما دخلت؟ فقال: نعم! ولم يرخص له في الدخول عليهن بغير إذن (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ اور ان کی کچھ بہنیں مکہ میں ایک گھر میں رہتے تھے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے رات کو دیر سے گھر آتے تھے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں جب بھی ان کے پاس جاؤں تو ان سے اجازت طلب کروں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں اور آپ نے انہیں بغیر اجازت جانے کی اجازت نہ دی۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (البيت)، وفي [هـ]: (الليل).
(٢) في [س]: (با الليل).