مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في العدل بين النسوة إذا اجمتعن ومن كان يفعله باب: بیویوں کے درمیان عدل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 18468
١٨٤٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يجمع بين (الضرائر) (١) (فقال) (٢): (إن) (٣) (كانوا) (٤) (ليسوون) (٥) بينهن حتى تبقى الفضلة مما (لا) (٦) يكال من السويق والطعام، فيقسمونه (كفا كفًا) (٧)، إذا كان يبقى الشيء مما لا يُسْتَطَاعُ (كَيْلُه) (٨).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے شخص سے فرمایا کرتے تھے کہ اسلاف بیویوں کے درمیان برابری کرنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ ستو اور غلے وغیرہ میں سے وہ چیز جو بچ جاتی اور کیل میں نہ آسکتی تو اس کو ہتھیلیوں سے تقسیم کرتے۔
حواشی
(١) في [س]: (الغرائر).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [هـ]: (إنهم).
(٤) في [أ، ب]: (كان).
(٥) في [ز]: (ليسووني)، وفي [هـ]: (يسوون).
(٦) سقط من: [س، ط، ز، هـ].
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك]: (كف كف).
(٨) في [ك]: (يكليه)، وفي [ز، هـ]: (كليله).