مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في رجلين تزوجا أختين فأدخلت امرأة كل (واحد) منهما على صاحبه باب: دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18391
١٨٣٩١ - حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (١) (قال) (٢): تزوج (أخوان) (٣) أختين، (فأدخلت) (٤) امرأة هذا على هذا وامرأة هذا على هذا، فرفع ذلك إلى علي فرد كل (واحدة) (٥) منهما إلى (صاحبها) (٦)، وأمر زوجها أن (لا) (٧) يقربها حتى تنقضي عدتها، وجعل لكل (واحدة) (٨) منهما الصداق على الذي وطئها لغشيانه إياها وجعل جهازها، والغرم على الذي زوجها (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو بھائیوں کا د و بہنوں سے نکاح ہوا، ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری عورت لائی گئی، یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوا آپ نے ہر عورت کو اس کے اصل خاوند کی طرف واپس فرمایا اور حکم دیا کہ عدت گزرنے تک خاوند اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں۔ پھر آپ نے جماع کرنے والوں پر مہر کو لازم قرار دیا اور تاوان اس شخص پر لازم کیا جس نے شادی کرائی تھی۔
حواشی
(١) في [س]: (حلاس).
(٢) سقط من [س، هـ]: (قال).
(٣) في [س]: (الأخوان).
(٤) في [جـ]: (فدخلت).
(٥) في [ب، س]: (واحد).
(٦) في [ك، ز، جـ]: (صاحبه).
(٧) في [س]: سقطت (لا).
(٨) في [ب، س]: (واحد).