مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يشترى الجارية وهى حامل أو (يسبيها)، ما قالوا في ذلك؟ باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٨٣٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: نا شعبة عن يزيد بن (خمير) (١) عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن أبي الدرداء أن النبي ﷺ مر على امرأة (مجحٍ) (٢) وهي على باب خباء أو فسطاط فقال: "لمن (هذه) (٣)؟ " فقالوا: لفلان، ⦗٥٦٦⦘ قال: " (أيُلِمّ) (٤) بها"، (قالوا) (٥): نعم! قال: "لقد هممت أن ألعنه لعنة تدخل (معه) (٦) قبره، (كيف) (٧) يستخدمه وهو (يغذوه) (٨) في (بصره) (٩) وسمعه؟ كيف يرثه وهو لا يحل له؟ " (١٠).حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور ﷺ ایک ایسی حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو قریب الولادت تھی (اور قیدی بنا کر لائی گئی تھی) ، وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ حضور ﷺ نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ جائے۔ وہ اس (سے پیدا ہونے والے بچے ) سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ اس کی سماعت اور بصارت کو تقویت دے رہا ہے ؟ وہ اس کا وارث کیسے ہوگا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہے ؟