مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يشترى الجارية وهى حامل أو (يسبيها)، ما قالوا في ذلك؟ باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18376
١٨٣٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن أشعث عن الحسن قال: لما فتحت (تستر) (١) أصاب أبو موسى سبايا فكتب إليه عمر أن لا يقع أحد على امرأة (حبلى) (٢) حتى تضع و (لا) (٣) (يشاركوا) (٤) (المشركين) (٥) في أولادهم فإن الماء تمام الولد (٦).مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تستر فتح ہوا تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کچھ باندیاں لگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں یہ حکم لکھ بھیجا کہ وضع حمل سے پہلے کوئی شخص کسی عورت سے جماع نہ کرے، مشرکین کی اولاد میں حصہ دار نہ بنو کیونکہ پانی بچے کو پورا کرتا ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (تشتر)، وفي [س]: (نستر).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [س]: (تشارك)، وفي [أ، ب، ط]: (تشاركوا).
(٥) في [هـ]: (المسلمين).