مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يشترى الجارية وهى حامل أو (يسبيها)، ما قالوا في ذلك؟ باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18374
١٨٣٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن صلة و (قثم) (١) وناجية بن كعب قالوا: أيما رجل اشترى جارية [حبلى فلا يطأها حى تضع حملها، (و) (٢) أيما رجل اشترى جارية] (٣) فلا يقربها حتى تحيض.مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ، حضرت قثم اور حضرت ناجیہ بن کعب s فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کوئی حاملہ باندی خریدے تو وضع حمل سے پہلے اس کے ساتھ جماع نہ کرے۔ اور اگر غیر حاملہ خریدے تو اس کو حیض آنے تک اس کے قریب نہ جائے۔
حواشی
(١) في [س]: (قيثم).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، جـ].