مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يشترى الجارية وهى حامل أو (يسبيها)، ما قالوا في ذلك؟ باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18373
١٨٣٧٣ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن حجاج (عن) (٢) عبد اللَّه بن زيد عن علي قال: نهى رسول اللَّه ﷺ (٣) أن توطأ (الحامل) (٤) حتى تضع أو ⦗٥٦٤⦘ (الحائل) (٥) حتى تستبرئ بحيضة (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ سے وضع حمل سے پہلے اور غیر حاملہ سے حیض کے ذریعے رحم کے صاف ہونے کا یقین ہونے سے پہلے وطی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حواشی
(١) في [ب، س]: (عياث)، وفي [جـ]: (عثمان).
(٢) في [ط]: (بن).
(٣) في [هـ]: زيادة (عن).
(٤) في [هـ، س]: (الحاملة).
(٥) في [أ، ز]: (الحامل)، وفي [ط]: (الحال)، وفي [هـ]: (الحائض)، وفي [ب]: (والحائل)، وفي [جـ، س، ك]: (أو الحائل).
(٦) منقطع؛ لانقطاع ما بين عبد اللَّه بن زيد وعلي.