مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في النفساء كم تجلس حتى يغشاها زوجها؟ باب: نفاس والی عورت کاخاوند کتنے دن تک اس سے جماع نہیں کرسکتا؟
١٨٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن (الجلد) (١) بن أيوب عن معاوية ابن قرة عن عايذ بن عمرو رجل من أصحاب النبي ﷺ وكان ممن بايع تحت الشجرة أن امرأة من نسائه نفست، فرأت الطهر لعشرين ليلة فاغتسلت ثم جاءت فدخلت معه في لحافه فقال: من هذه؟ فقالت: فلانة فقال: (أو) (٢) ليس قد نفست؟ قالت: (إني) (٣) قد رأيت الطهر قال: فضربها (برجله) (٤) حتى أخرجها من اللحاف ⦗٥٥٩⦘ وقال: لا (تغريني) (٥) عن ديني حتى (يمضي) (٦) أربعون يومًا (٧).حضرت عائذ بن عمرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں، یہ ان حضرات میں سے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں حصہ لیا، ان کی ایک زوجہ کو نفاس لاحق ہوا، وہ بیس دن بعد پاک ہوگئیں، لہٰذا غسل کیا اور آکر اپنے خاوند کے لحاف میں ان کے ساتھ لیٹ گئیں۔ انہوں نے پوچھا کون ہے ؟ بتایا کہ فلانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم حالت نفاس میں نہیں تھی ؟ زوجہ نے کہا کہ میں پاک ہوگئی ہوں، انہوں نے ٹانگ کے ذریعے انہیں اپنے لحاف سے نکال دیا اور فرمایا کہ مجھے میرے دین کے بارے میں دھوکہ نہ دو ، جب تک چالیس دن نہ گذر جائیں مت آنا۔