مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من أراد أن يتزوج المرأة، من قال: لا بأس أن ينظر إليها باب: اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرنا چاہے تو جن حضرات کے نزدیک وہ اسے دیکھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 18299
١٨٢٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن (سهل بن) (١) محمد (٢) بن أبي ⦗٥٤٣⦘ (حثمة) (٣) عن عمه (سليمان) (٤) بن أبي (حثمة) (٥) قال: رأيت محمد بن (مسلمة) (٦) يطارد (نبيتة) (٧) بنت الضحاك وهي على إنجار من (أناجير) (٨) المدينة ببصره فقلت: أتفعل هذا؟ قال: نعم! سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا ألقى اللَّه في قلب (امرئ) (٩) خطبة امرأة فلا بأس أن ينظر إليها" (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن ابی حثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن مسلمہ رحمہ اللہ کو دیکھا کہ نبی تہ بنت ضحاک کو دیکھ رہے تھے، میں نے کہا کہ آپ ایسا کررہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں کسی عورت سے نکاح کا ارادہ ڈال دے تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (بن سليمان).
(٣) في [أ، ب، س، ط]: (خيثمة).
(٤) في [هـ]: (سهل).
(٥) في [أ، ب، س، ط]: (خيثمة).
(٦) في [س]: (سلمة).
(٧) في [أ، ب]: (نبيشة)، وفي [س]: (نبشة)، وفي [هـ]: (ثبيتة).
(٨) في [س، ط، ب]: (أناحير).
(٩) في [س]: (امرأة).
(١٠) مجهول منقطع حكمًا؛ لجهالة سهل، وحجاج مدلس، هكذا رواه أبو معاوية محمد بن خازم فقال: سهل بن محمد عن عمه سليمان، أخرجه ابن حبان (٤٠٤٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٩٢)، والطبراني ١٩/ ٥٠٤، والخطيب في الأسماء المبهمة ١/ ٤٣، ورواه المزي ٢٥/ ٣٠١، من طريق الخطيب بما يوافق رواية الجماعة التي تقدمت (١٨٢٥٨)، وانظر: التاريخ الكبير ١/ ٩٦، وأسد الغابة ٧/ ٥١، وشرح معاني الآثار ٣/ ١٣، وسبق تخريجه (١٨٢٥٨)، كما أخرجه الحاكم ٣/ ٤٩٢.