مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من كره الأعرابي أن يتزوج المهاجرة باب: جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
١٨٢٤٢ - حدثنا عبيدة بن (حميد) (١) عن (الركين) (٢) عن أبيه قال: خطب ⦗٥٢٨⦘ (منظور) (٣) بن (زبان) (٤) (إلى) (٥) (خاله) (٦) وكانا (حاجين أو) (٧) معتمرين فقال: نعم إذا (رجعت) (٨) أنكحتك، فخرج إليها أخوها (ابن) (٩) أمها وأبيها، فأنكحها ابن (خالها) (١٠) (فقدم) (١١) (وقد أنكحت) (١٢) فغضب أبوها غضبًا شديدًا وقال: إني (أفر) (١٣) إلى اللَّه من هذا النكاح، إني سمعت (عمر) (١٤) يقول: لا (ينكح) (١٥) المهاجرات (الأعراب) (١٦) (١٧).حضرت رکین رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ منظور بن زبان نے اپنے ماموں سے رشتہ مانگا۔ (اس وقت وہ دونوں حج یاعمرے میں تھے) انہوں نے جواب میں کہا کہ ٹھیک ہے جب میں واپس لوٹوں گا تو تمہارا نکاح کرادوں گا، ادھر اس لڑکی کے سگے بھائی نے اپنے ماموں زاد سے اس لڑکی کا نکاح کرادیا جس کا رشتہ اس کے باپ نے وہاں طے کیا تھا، جب وہ واپس آئے تو لڑکی کا نکاح ہوچکا تھا، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں اس نکاح سے بالکل بری ہوں۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہاجرات کا نکاح دیہاتیوں سے نہیں کرایا جاسکتا۔