مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يقذف امرأته ثم يكذب نفسه (أيسعها) أن تقر معه أو ترافعه إلى السلطان؟ باب: ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت اس مرد کے ساتھ قیام پذیر رہے یا معاملہ قاضی کے دربار میں لے جائے؟
حدیث نمبر: 18141
١٨١٤١ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن الشعبي في الرجل يقذف امرأته (بالزنى) (٢) ثم لا ترافعه قال: يكذب نفسه وهما على نكاحهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اس مرد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر مسئلہ قاضی کی عدالت میں پیش نہ کرے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرلے تو نکاح باقی رہے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ز، ط]: (عبيد)، وفي [هـ، س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ز]: (في الزنى).