مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يقذف امرأته ثم يكذب نفسه (أيسعها) أن تقر معه أو ترافعه إلى السلطان؟ باب: ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت اس مرد کے ساتھ قیام پذیر رہے یا معاملہ قاضی کے دربار میں لے جائے؟
حدیث نمبر: 18140
١٨١٤٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن سالم عن الشعبي قال: إذا قذفها بالزنى إن شاء أكذب نفسه وجلد وردت إليه امرأته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مرد نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، پھر اگر چاہے تو اپنے قول سے رجوع کرلے، اور اس پر حد قذف جاری ہوگی اور وہ عورت اسی کی بیوی رہے گی۔