مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يقذف امرأته ثم يكذب نفسه (أيسعها) أن تقر معه أو ترافعه إلى السلطان؟ باب: ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت اس مرد کے ساتھ قیام پذیر رہے یا معاملہ قاضی کے دربار میں لے جائے؟
حدیث نمبر: 18139
١٨١٣٩ - حدثنا محمد بن سواء عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا (أكذب) (١) نفسه عند رهط (تساكنا) (٢) واستغفر ربه ولا يعود لذلك.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی جماعت کے پاس اپنے قول سے رجوع کرلے تو دونوں ساتھ رہیں اور آدمی اللہ سے معافی مانگے اور دوبارہ ایسے نہ کرنے کا عزم کرے۔
حواشی
(١) في [ب، هـ]: (كذب).
(٢) في [ك]: (تساكتا).