مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يقذف امرأته ثم يكذب نفسه (أيسعها) أن تقر معه أو ترافعه إلى السلطان؟ باب: ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت اس مرد کے ساتھ قیام پذیر رہے یا معاملہ قاضی کے دربار میں لے جائے؟
حدیث نمبر: 18138
١٨١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن سواء عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن قال: لا يسعها أن (تقاره) (٢) حتى ترافعه إلى السلطان، فإما حد وإما ملاعنة.مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت کے لئے اس مرد کے ساتھ رہنے کی گنجائش نہیں، وہ اس معاملے کو قاضی کے پاس لے جائے، پھر یا تو اس مرد پر حد لگے گی یا لعان ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [هـ]: (تفارقه).