حدیث نمبر: 18138
١٨١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن سواء عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن قال: لا يسعها أن (تقاره) (٢) حتى ترافعه إلى السلطان، فإما حد وإما ملاعنة.
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے قول سے رجوع کرلے تو عورت کے لئے اس مرد کے ساتھ رہنے کی گنجائش نہیں، وہ اس معاملے کو قاضی کے پاس لے جائے، پھر یا تو اس مرد پر حد لگے گی یا لعان ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [هـ]: (تفارقه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18138، ترقيم محمد عوامة 17535)