مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يتزوج الأمة (فتعتق) قبل أن يدخل بها (فتخير)، (فتختار) نفسها، هل لها (صداق) باب: اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 18135
١٨١٣٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل (زوج) (١) أمته على مهر مسمى ثم أعتقها قبل أن يدخل بها (زوجها) (٢) فتخير، فتختار نفسها قال: يبطل النكاح ويرد على الزوج مهره.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے مقررشدہ مہر پر اپنی باندی سے شادی کی، پھر وہ باندی دخول سے پہلے آزاد کردی گئی، پھر اسے اختیار ملا اور اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو نکاح باطل ہوجائے گا اور مہر اس کے خاوند کو واپس کیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: (تزوج).
(٢) في [س]: (تزوجها).