مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يتزوج الأمة (فتعتق) قبل أن يدخل بها (فتخير)، (فتختار) نفسها، هل لها (صداق) باب: اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 18134
١٨١٣٤ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا أعتقت الأمة وهي تحت العبد (فخيرت) (١) فاختارت نفسها قبل أن يدخل بها فلا صداق لها وهي تطليقة بائنة.مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی باندی کسی غلام کے نکاح میں تھی، پھر اسے آزاد کیا گیا اور آزادی کے بعد اختیار دیا گیا اور اس نے دخول سے پہلے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اس عورت کو مہر نہیں ملے گا اور یہ طلاق بائنہ ہوگی۔
حواشی
(١) في [س]: (فتخيرت).