حدیث نمبر: 18130
١٨١٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) عن جابر بن زيد قال: سئل عمن تزوج امرأة ثم طلقها قبل أن يمسها ثم قيل له: إنها لم تحرم عليك فدخل بها (بالنكاح) (٢) الأول فمكثت عنده سنتين فولدت له أولادًا فعلم بذلك أنها عليه حرام قال: يفرق بينهما ويعطي المرأة بنكاحها الأول نصف مهرها، (ومن دخوله) (٣) بها ومجامعته إياها مهرًا كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو چھونے سے پہلے اسے طلاق دے دے اور اسے کہا جائے کہ وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی، اور وہ پہلے نکاح کی بنیاد پر اس سے جماع کرلے اور وہ عورت اس مرد کے پاس دو سال تک ٹھہری رہے اور اولاد کو جنم دے پھر انہیں علم ہو کہ یہ عورت تو اس مرد پر حرام ہوگئی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، وہ عورت کو پہلے نکاح کی وجہ سے آدھا مہر دے گا اور دخول اور جماع کی وجہ سے پورا مہر دے گا۔

حواشی
(١) في [س]: (عمر).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (كالنكاح).
(٣) في [أ، ب، س، جـ، ز، ك]: (ومن دخوله). في [ط، هـ]: (وبدخوله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18130، ترقيم محمد عوامة 17527)