مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل يطلق امرأته طلاقا بائنا قبل أن يدخل بها ثم يجامعها وهو يرى أن له عليها رجعة، ما لها من الصداق؟ باب: اگر ایک آدمی دخول سے پہلے عورت کو طلاق بائنہ دے دے اور پھر اس خیال سے جماع کربیٹھے کہ ابھی رجوع کاحق ہے تواس عمل کا کیا حکم ہوگا؟
١٨١٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) عن جابر بن زيد قال: سئل عمن تزوج امرأة ثم طلقها قبل أن يمسها ثم قيل له: إنها لم تحرم عليك فدخل بها (بالنكاح) (٢) الأول فمكثت عنده سنتين فولدت له أولادًا فعلم بذلك أنها عليه حرام قال: يفرق بينهما ويعطي المرأة بنكاحها الأول نصف مهرها، (ومن دخوله) (٣) بها ومجامعته إياها مهرًا كاملًا.حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو چھونے سے پہلے اسے طلاق دے دے اور اسے کہا جائے کہ وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی، اور وہ پہلے نکاح کی بنیاد پر اس سے جماع کرلے اور وہ عورت اس مرد کے پاس دو سال تک ٹھہری رہے اور اولاد کو جنم دے پھر انہیں علم ہو کہ یہ عورت تو اس مرد پر حرام ہوگئی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، وہ عورت کو پہلے نکاح کی وجہ سے آدھا مہر دے گا اور دخول اور جماع کی وجہ سے پورا مہر دے گا۔