مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل تمر به المرأة فينظر إليها، من كره ذلك باب: بدنظری کی ممانعت
١٨١١٥ - حدثنا جرير عن منصور قال: قال ابن عباس: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ [غافر: ١٩]، قال: الرجل يكون في القوم فتمر بهم المرأة فيريهم (أنه) (١) يغض بصره عنها فإن رأى منهم غفلة نظر إليها، فإن خاف (منهم) (٢) أن ⦗٥٠١⦘ يفطنوا به غض بصره (عنها) (٣) (٤)، وقد اطلع اللَّه من قلبه (أنه ود) (٥) أنه نظر إلى عورتها (٦).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت : اللہ آنکھوں کی خیانت اور دل میں چھپے خیالات کو جانتا ہے۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایک آدمی کچھ لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہے اور وہاں سے ایک عورت گذرتی ہے، وہ لوگوں کو یہ باور کراتا ہے کہ اس نے اپنی نگاہ جھکا لی ہے، پھر اگر وہ لوگوں کو خود سے غافل پاتا ہے تو عورت کو دیکھنے لگتا ہے اور اگر اسے اندیشہ ہو کہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو نظر کو جھکا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل کے خیالات سے بھی واقف ہے کہ وہ آدمی عورت کے چھپے ہوئے حصے کو بھی دیکھنا چاہتا ہے۔