مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل تمر به المرأة فينظر إليها، من كره ذلك باب: بدنظری کی ممانعت
حدیث نمبر: 18108
١٨١٠٨ - حدثنا معتمر عن داود (١) أبي (الهيثم) (٢) قال: قال رجل لابن سيرين (استقبل القبلة) (٣) في الطريق: أليس (لي) (٤) النظرة الأولى، ثم أصرف عنها بصري؟ قال: أما تقرأ القرآن: ﴿يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ [النور: ٣٠]، ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ [غافر: ١٩].مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہیثم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر میرے سامنے کوئی عورت راستے میں آجائے اور میں اس سے نگاہ پھیرلوں تو کیا مجھے گناہ ملے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا قرآن نہیں پڑھتے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل ایمان سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (بن).
(٢) في [س]: (الهشيم)، وفي [هـ]: (هند).
(٣) في [س]: (استقبله).
(٤) في [ز، ك]: (في).